چندی گڑھ،5؍دسمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) زرعی قوانین کے خلاف دہلی میں تحریک کے لیے جا رہے پنجاب اور ہریانہ کے کسانوں پر پولس کے ذریعہ کیے گئے ظالمانہ سلوک کے خلاف ہریانہ کے سابق وزیر اعلیٰ بھوپندر سنگھ ہڈا نے ریاست کی کھٹر حکومت کے خلاف اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک لانے کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے ریاست کے گورنر سے کسانوں کے معاملےپر اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ہریانہ کے سابق وزیر اعلیٰ بھوپندر سنگھ ہڈا نے گورنر کوبتایا ہے کہ موجودہ حکومت لوگوں کا اور اسمبلی کا اعتماد کھو چکی ہے۔
اس سے قبل سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس لیڈر نے زرعی قوانین کے خلاف تحریک چلا رہے کسانوں کو ’خالصتانی‘ کہہ کر بے عزت کیے جانے پر گہری ناراضگی ظاہر کی۔ انھوں نے کہا کہ کسانوں کی بے عزتی ہو رہی ہے۔ انھیں ’خالصتانی‘ کہا جا رہا ہے۔ کسان صرف کسان ہوتے ہیں۔ یہ کسان مذہب، ذات اور علاقہ سے اوپر اٹھ کر اپنے جائز مطالبات کے لیے اس سردی میں یہاں آئے ہیں، اور ان کی بے عزتی کی جا رہی ہے جو ٹھیک نہیں۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہریانہ حکومت بری حالت میں ہے، کیونکہ انھوں نے سب سے بڑی غلطی کی ہے۔ اگر انھوں نے کسانوں کو روکا نہیں ہوتا یا پانی کی توپوں کا استعمال نہیں کیا ہوتا، یا پھر آنسو گیس کے گولے نہیں چھوڑے ہوتے تو یہ مسئلہ سامنے نہیں آتا۔ قومی راجدھانی جانے سے دوسروں کو کوئی کیسے روک سکتا ہے؟ ہریانہ حکومت نے جو کیا وہ قابل مذمت ہے۔